Emotion
بیوی نے ٹیوشن کے بچوں کے جانے کے بعد چائے رکھی اور بتایا کہ ایک بچے کی ماں نے اس کی بہت تعریف کی ہے۔ میں نے پہلے صرف اچھا کہا، پھر اس نے وہی بات دوبارہ بتائی تو غور سے سنی۔ بچے کے نمبر بڑھے تھے اور اب وہ خود کتاب کھولتا ہے۔ بیوی کا چہرہ دیکھ کر دل خوش ہوا، وہ عام طور پر صرف بتاتی ہے کون دیر سے آیا اور کون کام نہیں لایا۔ میں نے کہا پھر مٹھائی بنتی ہے، اس نے ہنس کر کہا تمہیں ہر بات میں کھانا چاہیے۔ شام کو لایا تو بچوں نے زیادہ خوشی منائی۔ میں نے بیوی سے کہا تعریف تمہاری ہوئی ہے، پہلا ٹکڑا تمہارا ہے۔ الحمدللہ۔
Body
بیٹے کو سائیکل چلانا سکھاتے ہوئے آج خود زیادہ بھاگنا پڑا۔ وہ پیڈل آہستہ مارتا ہے پھر اچانک تیز، میری کمر جھکی رہتی ہے تاکہ پیچھے سے پکڑ سکوں۔ کرکٹ میں دوڑ کا اپنا انداز ہے، یہاں چھوٹے چھوٹے قدم لیتے ہوئے رانوں میں کھنچاؤ محسوس ہوا۔ آخر صحن میں بیٹھ کر ٹانگیں سیدھی کیں تو بیٹا کہتا ہے ابا تھک گئے؟ میں نے کہا تمہاری گاڑی کی رفتار ہی ٹھیک نہیں۔ پھر وہ پانی لے آیا، آدھا گلاس راستے میں گر گیا۔ شام کی ورزش جیسا پسینہ آیا مگر یہ کام زیادہ دیر یاد رہے گا، ابھی بازو پر اس کے چھوٹے ہاتھ کا نشان ہے جہاں گرنے کے ڈر سے پکڑا تھا۔
Mind
چھت پر کبوتر گنتے وقت بیٹا ہر بار اسی سفید والے کو دو دفعہ گن لیتا ہے، وہ ایک جگہ بیٹھتا ہی نہیں۔ میں نے سوچا اسے کیسے سمجھاؤں کہ صرف نمبر بولتے جانا گنتی نہیں، جسے گن لیا اسے پہچاننا بھی ہے۔ پھر خود ہنسی آ گئی کہ میں گھر میں بھی یہی سبق پڑھا رہا ہوں۔ اسے کہا پہلے ایک طرف بیٹھے ہوئے دیکھو، پھر دوسری طرف۔ کچھ دیر بعد وہ نام رکھنے لگا، موٹا، چھوٹا، بھورا۔ شاید اسے ایسے زیادہ یاد رہیں۔ میں نمبر سے جانتا ہوں، اسے نام سے جاننے دو، ابھی چار سال کا ہے۔ کل پوچھوں گا بھورا کون سا تھا، مجھے تو دو ایک جیسے لگ رہے تھے۔