Mind
سوچ رہی ہوں بچوں کی کاپیاں اور پنسلیں کاؤنٹر کے نزدیک رکھ دوں، ہر چھٹی کے وقت تین بچے تین طرف انگلی کرتے ہیں اور مجھے بار بار اٹھنا پڑتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہاں ٹافیوں کے مرتبان ہیں، انہیں پیچھے کیا تو بچے پھر اسی طرف جائیں گے۔ پوتی نے کہا دونوں چیزیں ساتھ رکھیں، مگر جگہ ہے کتنی، اس نے اپنی کتابیں کبھی ایک بستے میں پوری رکھی ہوں تو جانے۔ کل صرف ایک مرتبان ہٹا کر دیکھوں گی۔ پوری دکان الٹنے کی ضرورت نہیں، پچھلی بار صابن کی جگہ بدلی تھی تو خود ہی دو دن پرانی جگہ ہاتھ جاتا رہا۔
Emotion
بیٹے نے کہا دکان کی نئی چھتری دور سے نظر آتی ہے، میں فوراً بولی تمہیں تو رنگ پسند ہی نہیں تھا۔ کہنے لگا اب بھی زیادہ شوخ ہے مگر پہچان بن گئی ہے۔ بس جی خوش ہو گیا، پھر خود پر ہنسی بھی آئی کہ بہتر سال کی عمر میں بھی اس کے ایک جملے کی اتنی خوشی! شام کو سہیلی آئی تو اسے بتایا کہ گاہکوں کو سایہ اچھا مل رہا ہے، یہ نہیں بتایا کہ بیٹے نے تعریف کی۔ پھر دو بار خود ہی چھتری کا ذکر چھیڑ دیا۔ آخر اس نے کہا بہن، پسند ہے تمہیں تو ہے، اب پورے محلے سے منظوری لو گی کیا۔
Body
آج پوتی کے بالوں میں تیل لگاتے ہوئے وہ فرش پر بیٹھ گئی اور میں کرسی پر، پہلے کی طرح ساتھ نیچے بیٹھنے کو دل کیا مگر پھر اٹھنے کا سارا بندوبست یاد آ گیا۔ گھٹنا صبح سے کچھ گرم سا تھا، چلنے میں اتنا نہیں جتنا کرسی سے اٹھتے وقت کھنچتا ہے۔ اس نے سر پیچھے کیا تو میری انگلیاں بالوں میں آرام سے چلنے لگیں، دکان کے سکے گنتے وقت ہاتھ کچھ سخت ہو جاتے ہیں، یہاں نرم نرم کام تھا۔ چوٹی پوری ہونے پر وہ فوراً بھاگ گئی اور میں وہیں بیٹھی رہی، ہاتھوں میں تیل کی خوشبو تھی، کریم کی ڈبی آج کھولنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔