Mind
کراچی سمندر جانے کی بات پھر نکلی۔ میں کہتا ہوں کام ہلکا ہو تو چلیں گے، بچے پوچھتے ہیں کون سا دن۔ اب حساب لگاتا ہوں تو کرایہ الگ، کھانا الگ، کام کی چھٹی الگ، اور دن طے ہی نہیں ہوتا۔ بیوی کہتی ہے پہلے ایک تاریخ سوچو پھر خرچ جوڑیں گے۔ میری عادت الٹی ہے، پہلے سب پیسے پورے نظر آئیں تو بات کروں۔ اس طرح وعدہ بہت پرانا ہو گیا۔ آج بیٹی سے کہا کاغذ پر صرف سفر کا خرچ لکھ دو، باقی بعد میں دیکھتے ہیں۔ کاغذ جیب میں ہے، ابھی کسی کو خوش خبری نہیں دی۔ سمندر کا نام سنتے ہی چھوٹی اپنے جوتے ڈھونڈنے لگتی ہے، اس کو پھر انتظار نہیں کرانا چاہتا۔
Emotion
بڑے بیٹے نے آج اپنی کاپی دکھائی۔ میں نے کہا بہن کو دکھاؤ، وہ بہتر دیکھ لے گی۔ اس کا منہ اتر گیا تو سمجھ آیا کہ وہ پڑھوانے نہیں، مجھے دکھانے آیا تھا۔ پاس بٹھایا، اس نے خود سوال پڑھا اور بتایا کیسے کیا ہے۔ کچھ سمجھ آیا، کچھ نہیں، مگر وہ خوش ہو کر بول رہا تھا۔ مجھے اچھا لگا اور دل میں تھوڑا افسوس بھی ہوا کہ پہلے ہی ٹال دیا۔ بڑی بیٹی کی پڑھائی کا ذکر بہت کرتا ہوں، لڑکوں سے اکثر بس پوچھ لیتا ہوں اسکول گئے تھے۔ بیٹے نے جاتے ہوئے کاپی میز پر کھلی چھوڑ دی۔ میں نے بند نہیں کی، بیوی کو بھی دکھانی تھی۔ اس نے دیکھا تو کہا آج استاد صاحب گھر میں بھی کلاس لے رہے تھے۔
Body
رات کھانے کے بعد چھوٹی بیٹی نے کہا ابو میرے ساتھ باہر بیٹھو۔ دروازے کے پاس چارپائی پر بیٹھ گئے، اندر کے مقابلے میں تھوڑی ہوا آ رہی تھی۔ میں نے پاؤں زمین سے اٹھا لیے تو سارا دن کھڑے رہنے کا پتا چلا، تلوے گرم تھے۔ بچی بولتی رہی اور میں ہاتھ پر پانی لگاتا رہا۔ وہ سمجھی مجھے گرمی ہے، پنکھا اٹھا لائی اور دو منٹ میں خود تھک گئی۔ پھر ہم دونوں ہنسے۔ بھٹی کی گرمی کے بعد گھر کی ہوا بھی بڑی چیز لگتی ہے۔ بیوی نے چائے بھیجی، کپ پکڑنے کو دل نہیں تھا، پہلے ذرا ٹھنڈا ہونے دیا۔ بیٹھے بیٹھے آنکھ لگنے لگی تو بیٹی نے کہا آپ میری بات سن ہی نہیں رہے۔ آدھی بات سنی تھی، آدھی پھر سنائی۔