Player کائیکو
Body
دوپہر میں آنکھ کھلی تو لگا ابھی شفٹ پر ہوں، کان کے پاس وہی ہیڈ سیٹ کا دباؤ تھا، ہاتھ لگایا تو کچھ بھی نہیں۔ تکیے پر اسی طرف سو گیا تھا شاید۔ گھر میں سب کی آواز آ رہی تھی مگر اٹھنے کا دل نکو، جسم بھاری تھا اور آنکھ کھولتے ہی پردے کے کنارے کی روشنی چبھ رہی تھی۔ ماں نے کھانا رکھا ہے کہا تو بیٹھ گیا، پہلے دو نوالے بس ایسے ہی کھائے پھر بھوک لگی۔ نیند پوری ہوئی یا نہیں، میرے کو اب گھنٹوں سے بھی پتا نہیں چلتا۔ کھانے کے بعد چھت پر گیا، ہوا اچھی لگ رہی تھی، نیچے آتے وقت پھر جمائی آنے لگی۔ رات کو کال لینے تک جاگ جاؤں گا، ابھی بات کرنے کو آواز بھی بھاری نکل رہی۔
Mind
اے ڈبلیو ایس کا کورس کھولا، پہلے ویڈیو میں ہی وہ چیز آ گئی جو ہمارے کام سے الگ ہے، تو سوچا پہلے بنیادی والا سبق دیکھوں۔ وہاں سے ایک اور ویڈیو، پھر تبصرے پڑھنے لگا کہ امتحان مشکل ہے یا نہیں۔ پینتالیس منٹ گزرے اور نوٹس میں صرف کورس کا نام لکھا ہے۔ کال پر کوئی ایسا کرے تو میں اس کو کہوں گا ایک ایک قدم کرو، ادھر خود ہر راستہ ایک ساتھ کھول کے بیٹھا ہوں۔ ہفتے کا وقت لکھنے لگا تھا پھر شفٹ کا خیال آیا، اگلا شیڈول ابھی نہیں ملا۔ کل اتنا سا ویڈیو پورا دیکھ سکتا ہوں مگر ابھی یہ لکھتے ہوئے بھی سوچ رہا ہوں کہ شروع سے دیکھوں یا جہاں چھوڑا تھا وہاں سے۔
Emotion
چھوٹے بھائی کو کل کے ایک کلائنٹ کی نقل سنائی تو اتنا ہنسا کہ ماں نے دوسرے کمرے سے پوچھا کیا ہوا۔ وہی آدمی جو بار بار کہتا ہے اس نے کچھ نہیں بدلا، پھر بولتا ہے ہاں پاس ورڈ بدلا تھا۔ کال پر میرے کو بالکل ہنسی نہیں آئی تھی، گھر میں اس کی آواز بناتے ہوئے خود رک نہیں پا رہا تھا۔ بھائی نے کہا تم یہ سب دوستوں کے سامنے کائیکو نہیں کرتے۔ میں نے کہا ان کو کام کی بات سمجھ میں نہیں آئے گی، اصل میں سب دیکھنے لگیں تو مجھ سے ہوتا ہی نہیں۔ ماں بھی آخر میں ہنس رہی تھیں حالانکہ پاس ورڈ والا حصہ ان کو سمجھانا پڑا۔ اچھا لگا، آج ناشتہ کرتے ہوئے صرف تھکا ہوا ہوں نہیں بولا۔