Mind
لاہور والی بیٹی کہہ رہی ہے امی کچھ دن آ جائیں، میں کیلنڈر لے کر بیٹھی کہ کون سی تاریخ کی چھٹی مانگوں۔ تنخواہ کے بعد جاؤں تو پوتے کی فیس نکل جائے گی، پہلے جاؤں تو ٹکٹ شاید سستا، پھر یاد آیا بہو کے ہاں مہمان آنے ہیں اور میں نے کھیر کا کہہ رکھا ہے۔ ہر تاریخ پر کسی اور کا کام نکل آتا ہے، اپنے سفر کی تاریخ بس نہیں نکلتی۔ بیٹی کو فون کیا حساب سمجھانے تو بولی آپ صرف دن بتائیں، باقی ہم کر لیں گے۔ اتنا آسان ہوتا تو کب کی بتا دیتی! اب کیلنڈر پر تین دائرے ہیں اور مجھے خود یاد نہیں کون سا جانے کا تھا۔
Emotion
سٹور کی ایک لڑکی نے کہا آپا یہ رنگ آپ پر بہت اچھا لگتا ہے، ہائے میں تو خوش، دوپٹہ ذرا اور ٹھیک کر لیا، پھر دوسری لڑکی بولی میری نانی بھی یہی پہنتی ہیں۔ لو جی، ابھی تعریف پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ نانی بنا دیا! میں نے ہنس کر کہا تمہاری نانی کی پسند اچھی ہے مگر دل کچھ بجھ گیا، حالانکہ اپنے پوتوں کی نانی کہلاؤں تو پھولی نہیں سماتی۔ گھر آ کر بہو سے پوچھا کپڑا پرانا سا تو نہیں لگتا، اس نے کہا بالکل نہیں، اب اس بات پر یقین کیوں نہیں آ رہا؟ کل یہی پہنوں گی، نیا نکالنے کا ارادہ بھی نہیں ہے۔
Body
چھت پر چکر لگا رہی تھی کہ چھوٹا پوتا اپنی گیند لے آیا، اب نانی چلیں اور گیند بھی روکیں، اس بچے کو سمجھائیں میرے دو ہی پیر ہیں! جھک کر اٹھائی تو گھٹنے نے آواز کی مگر درد نہیں ہوا، بس سیدھی ہونے میں وقت لگا اور جناب تب تک دوسری طرف بھاگ گئے۔ صبح کی ہوا میں دوپٹے کے نیچے گردن ٹھنڈی ہو رہی تھی، دھوپ والی طرف جاتے ہی گرم، بڑا اچھا لگ رہا تھا اس لیے اپنے بیس چکروں کی گنتی بھی بھول گئی۔ نیچے آئی تو بھوک کھلی ہوئی تھی اور چپل ابھی ڈھیلی، شام کو یہی چپل اتارنے کے لیے ہاتھ لگانا پڑتا ہے۔ آج چھت والا وقت ذرا اور مل جاتا تو اچھا تھا۔