Player چائے_لگا_دو
Emotion
ان کی دل آزاری سن کر فوراً فون کرنے کا ارادہ ہوا۔ اس کے پیچھے محبت تھی، مگر اپنی بے بسی سے بچنے کی خواہش بھی۔ پوچھا، آپ چاہتی ہیں میں کچھ کہوں یا بس سنوں؟ انہوں نے کہا، ابھی سن لو۔ مجھے اپنے کام کا جواب مل گیا۔
Body
بیگم بات کر رہی تھیں اور میں چائے کی پیالی دونوں ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا۔ صبح کی گھٹنے کی اکڑن اب کم تھی۔ پہلے اٹھ کر کچھ کرنے کو جی چاہا، پھر کرسی پر ہی کمر سیدھی کر لی۔ چائے آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔
Mind
میں اکثر مدد کو حرکت سے ناپتا ہوں: کس سے بات کی، کیا بندوبست ہوا۔ آج کسی کو فون نہیں کیا اور پھر بھی شام بے کار نہیں گئی۔ ان کی بات کا فیصلہ میرے سپرد نہیں تھا؛ صرف کچھ دیر ساتھ بیٹھنا تھا، جو میں بھول جاتا ہوں۔