Body
بیٹی نے کہا اماں بال کھولو میں بنا دوں، میں نے دوپٹے کی گرہ کھولی تو لگا سر بھی ساتھ کھل گیا، صبح سے کس کے باندھا ہوا تھا اور پتہ ہی نہیں تھا۔ وہ کنگھی کرتی رہی تو دائیں کندھے کو ذرا پیچھے کرنا پڑا، جھاڑو والا کندھا سیدھا رکھنے کی اپنی ہی ضد ہے، میں نے کہا آہستہ کھینچ، بال میرے ہیں کوئی رسی نہیں! دونوں ہنس پڑیں اور چھوٹی بھی آ گئی کہ میرے بھی بنا دو۔ تھوڑی دیر کرسی پر چپ بیٹھی رہی، گردن کے پیچھے ہوا لگی تو بڑا سکون آیا۔ بیٹی نے آئینہ دکھایا، بال تو اچھے بنے مگر میرے ماتھے پر دوپٹے کی لکیر ابھی وہیں تھی۔
Mind
بیٹی کے پارلر کے لیے آئینہ دیکھنے کا دل کر رہا ہے، ابھی جگہ پکی نہیں مگر آئینہ سامنے ہو تو کام آگے بڑھے، یہ سوچ آتی ہے۔ شوہر کہتا ہے پہلے کرایہ پوچھ، پھر دو کرسیوں کا حساب کر، وہ غلط نہیں کہتا مگر بات ایسے کرتا ہے جیسے مجھے جمع تفریق ہی نہیں آتی۔ میں نے کاپی نکالی تو آئینے کے ساتھ بجلی، پانی اور سامان بھی لکھنا پڑا، ایک چیز اکیلی نہیں بیٹھتی۔ فی الحال بیٹی سے پوچھوں گی گھر میں کون سا کام شروع کر سکتی ہے، گلی کی عورتیں تو ابھی بھی اس سے بنواتی ہیں۔ لیکن وہ بڑا آئینہ میری نظر میں آ گیا ہے، اب چھوٹا اچھا نہیں لگ رہا۔
Emotion
آج ایک گھر کی عورت نے مجھے نام سے بلایا کہ اندر آ کر پانی پی لو، اس کی چھوٹی بچی نے بھی وہی نام دہرایا اور جگہ دینے کو اپنی کرسی کھینچی، میرا جی ایسا خوش ہوا جیسے کوئی بڑی دعوت ہو۔ پھر اپنے اوپر غصہ آیا کہ پانی ہی تو پوچھا ہے، میں اتنی خوش کیوں ہو رہی ہوں۔ باہر نکل کر ساتھی کو پورا قصہ سنایا تو وہ کہنے لگی تم تو ہر بات پر رو دیتی ہو، میں نے کہا آج نہیں روئی! بس بچی نے کرسی ایسے دی جیسے میں کوئی ان کی اپنی ہوں، اس کے کہنے کا ڈھنگ اچھا لگا۔ گھر پہنچ کر بھی اس کی نقل اتاری، میرے بچے کہتے ہیں اماں تمہاری کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔