Emotion
میری شاگرد نے اپنا پہلا اچھا سوٹ گاہک کو دیا تو مجھ سے زیادہ وہ گاہک کی شکل دیکھ رہی تھی۔ پسند آ گیا، لڑکی کی خوشی چھپ ہی نہیں رہی تھی۔ مجھے اس پر پیار بھی آیا اور اپنی پہلی کمائی یاد آ گئی، جب پیسے گننے سے زیادہ انہیں اپنے ہاتھ میں دیکھنے کی خوشی تھی۔ پھر اس نے کہا باجی آپ نے سکھایا ہے، اور میں فوراً سلائی کی ایک چھوٹی غلطی بتانے لگی۔ شاید تعریف سن کر مجھے یہی کرنا آتا ہے۔ شام تک دل خوش رہا، بس افسوس تھا کہ اس وقت میں بھی اس کے ساتھ کھل کر ہنس لیتی۔ کل وہ پھر آئے گی تو یہ بات بتاؤں گی، یا شاید چائے کے ساتھ اس کی پسند کا بسکٹ رکھ دوں، بات ہمیشہ زبان سے نہیں نکلتی۔
Body
شام کو چھت پر چائے لے کر بیٹھی تو پہلی بار خیال آیا کہ آج ہوا ٹھنڈی ہے۔ نیچے مشین کے پاس تو پنکھا چلنے کے باوجود کپڑا بار بار بازو سے چپک رہا تھا۔ دوپٹے کی گرفت ڈھیلی کی اور دونوں ہاتھ گود میں رکھے، نہ قینچی پکڑی نہ فون۔ امی کچھ بتا رہی تھیں، میں سن رہی تھی مگر جواب دینے میں بھی سستی ہو رہی تھی، اچھی والی سستی، جیسے کوئی کام فوراً ضروری نہیں۔ چائے زیادہ گرم تھی اس لیے آہستہ پی۔ انگلیوں پر کپ کا گرم حصہ اچھا لگا، حالانکہ دن بھر گرمی کی شکایت کی تھی۔ نیچے سے شاگرد کا چھوڑا ہوا پیمانہ یاد آیا، پھر سوچا صبح بھی وہیں مل جائے گا۔ ابھی سیڑھیاں اترنے کا دل نہیں تھا۔
Mind
اپنی شادی کے بعد کام جاری رکھنے والی بات کا پورا جملہ ذہن میں کئی بار بنا چکی ہوں، مگر منگیتر کی کال آتی ہے تو پہلے اس کے دن کا پوچھتی ہوں، پھر گھر کی باتیں، پھر وقت ختم۔ وہ منع نہیں کرتا، میں نے صاف پوچھا ہی نہیں، اس لیے اس کی طرف سے جواب خود بنانا بھی ٹھیک نہیں۔ مجھے صرف اتنا نہیں جاننا کہ مشین ساتھ لے جا سکتی ہوں یا نہیں؛ جگہ، وقت، گاہک، سب کا خیال ہے۔ کاغذ پر لکھا تو بات اتنی بڑی نہیں رہی جتنی رات کو سوچتے ہوئے بنتی ہے۔ پھر بھی فون کے سامنے وہ کاغذ رکھنے میں جھجک آ رہی ہے، جیسے اپنی پسند کا کام مانگنا کوئی ضد ہو۔ ابھی کاغذ الماری میں نہیں رکھا، میز پر ہی پڑا ہے۔