Body
صبح کی سیر سے واپس آ کر قمیص بدلی تو معلوم ہوا کہ پشت پسینے سے تر ہے، حالانکہ پارک میں ہوا خنک محسوس ہو رہی تھی۔ آخری چکر میں ساتھی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رفتار کچھ تیز ہو گئی تھی اور گھر کے دروازے پر پہنچ کر سانس سنبھالنے کے لیے رکنا پڑا۔ بیگم نے کرسی کی طرف اشارہ کیا، جس پر میں بیٹھ گیا، اگرچہ جوتے اتارنے کا ارادہ کھڑے کھڑے تھا۔ موزے اتارنے کے بعد انگلیوں کو کھلی ہوا لگنا اچھا لگا۔ پانی آہستہ پیا، اس مرتبہ ناشتہ بھی معمول کی عجلت کے بغیر کیا۔ بیگم نے نوٹ کیا کہ آج میز سے پہلے میں نہیں اٹھا۔
Mind
پرانے تصویری البم پر تاریخیں لکھنے بیٹھا ہوں۔ مکان کی تعمیر والی تصویر کا سال معلوم ہے، مگر ایک شادی کی تصویر پر اختلاف پیدا ہو گیا؛ میں نے اسے مکان کی تعمیر سے پہلے کا سمجھا تھا، بیگم کہتی ہیں بعد کا ہے۔ میری دلیل کپڑوں کی تھی، ان کی دلیل بچے کی عمر، جو زیادہ معتبر معلوم ہوتی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ تصویر کے پیچھے کسی نے کچھ نہیں لکھا، حالانکہ موقع پر سب کو واقعہ یاد رہا ہوگا۔ اب اندازے کو تاریخ بنا دینا درست نہیں۔ خالی جگہ چھوڑ دی ہے اور بڑی بہن سے پوچھوں گا۔ رجسٹر میں نہ ہو تو اپنی یادداشت بھی دوبارہ جانچنی پڑتی ہے۔
Emotion
بیٹی کے بچے آئے تو چھوٹے نے اپنی کھلونا گاڑی میرے سامنے رکھ کر کہا کہ نانا یہ ٹھیک کر دیں گے۔ پہیہ صرف اٹکا ہوا تھا، دو منٹ کا کام، لیکن اس کا یقین دیکھ کر خوشی ہوئی۔ میں نے سمجھانا شروع کیا کہ رکاوٹ کہاں تھی، وہ گاڑی لے کر فرش پر چلا چکا تھا۔ ظاہر ہے اسے نتیجے سے غرض تھی، تقریر سے نہیں۔ پھر بھی اس نے جاتے ہوئے دوبارہ بتایا کہ اب گاڑی سیدھی چلتی ہے۔ یہ بات بیگم کو بتائی تو انہوں نے کہا آپ کو مرمت کا معاوضہ مل گیا۔ میں نے جواب نہیں دیا، مگر بات درست تھی۔ شام تک گاڑی کے ننھے پہیوں کا خیال آتا رہا۔