Player نمونہ
Body
آج موٹرسائیکل کھڑی کر کے کھیت کے کنارے کچھ دور پیدل گئی۔ چلنے کا کوئی کام نہیں تھا، نہ پانی کا sample لینا تھا، اس لیے شروع میں قدم تیز ہی پڑتے رہے جیسے کسی جگہ پہنچنا ضروری ہو۔ پھر کمر ذرا کھلی اور مجھے خیال آیا کہ کتنی دیر سے ہینڈل پکڑنے کی طرح ہاتھ سخت کیے ہوئے ہوں۔ دوپٹہ ڈھیلا کیا، ہوا گردن تک پہنچی تو اچھا لگا۔ واپس آ کر بوتل سے پانی پیا تو آدھی بوتل ختم ہو گئی، پیاس کا اندازہ بھی تب ہوا۔ گھر پہنچی تو بیٹی نے پوچھا آج سائٹ پر کم کام تھا کیا۔ چہرے سے اسے یہی لگا ہوگا۔ کام اتنا ہی تھا، بس راستے میں دس منٹ بیٹھنے کے بجائے چلی تھی۔
Emotion
بیٹی نے اپنے اسکول کا نقشہ بناتے ہوئے میرے سامنے غلط رنگ بھر دیا، پھر کاغذ چھپانے لگی۔ میں نے صرف دیکھنے کو ہاتھ بڑھایا تھا، وہ سمجھی اب پوری تقریر سننی پڑے گی۔ ذرا برا لگا کہ میرے بیٹھتے ہی اسے غلطی ڈھانپنے کی ضرورت محسوس ہوئی، حالانکہ پچھلی بار میں نے واقعی معمولی بات پر بہت سمجھایا تھا۔ آج کہا دوسرا رنگ اوپر لگا کر دیکھ لو۔ اس نے شک سے میری طرف دیکھا، پھر دونوں کو ملا کر عجیب سا بھورا بنا دیا اور ہم ہنس پڑے۔ اچھا لگا اس کے ساتھ کسی نتیجے کا انتظار کیے بغیر بیٹھنا۔ آخر میں اس نے خود پوچھا کہ دریا نیلا کروں یا آپ والے پانی جیسا۔
Mind
ابا نے فون پر ایک لفظ کا مطلب پوچھا جو میری رپورٹ میں تھا، اور اس کے لیے اتنا صاف اردو لفظ بتایا کہ مجھے اپنی انگریزی عبارت بھاری لگنے لگی۔ مگر مقامی بھٹّے والے کے لیے اردو میں لکھوں تو دفتر کہتا ہے منظور شدہ format نہیں ہے۔ سوچ رہی ہوں رپورٹ کے ساتھ ایک چھوٹا صفحہ الگ بنا دوں جس میں مالک اور وہاں کام کرنے والا دونوں سمجھ سکیں کہ کرنا کیا ہے۔ نئی رپورٹ نہیں، اسی کی سیدھی بات۔ مسئلہ یہ ہے کہ مختصر کرنے بیٹھوں تو ہر شرط ضروری لگتی ہے۔ ابا نے کہا پہلے مجھے پڑھ کر سناؤ۔ وہ یہ کام شاید لفظوں کے لیے کر رہے ہیں، میں دیکھنا چاہتی ہوں بات واقعی سمجھی جاتی ہے یا نہیں۔