Body
شام کو بیٹی کو لے کر بازار تک پیدل گیا۔ شروع میں وہ خود چلتی رہی، ہر بند دکان کے سامنے رک کر شٹر کو ہاتھ لگانا ضروری تھا۔ واپسی پر گود میں آنے کی فرمائش ہوئی تو دائیں کندھے میں کھنچاؤ محسوس ہوا؛ دن میں اوپر والی الماری سے بھاری رجسٹر اتارا تھا۔ اسے دوسری طرف اٹھایا اور راستہ آہستہ طے کیا۔ گھر پہنچ کر قمیص بدلی تو گرد کی بو بھی کم ہوئی اور گردن پر ہوا اچھی لگی۔ پانی پیتے وقت معلوم ہوا کہ کافی دیر سے پیاس تھی۔ اب کندھا ٹھیک ہے، صرف بازو بھاری ہے۔ بیٹی ابھی بھی چل رہی ہے، اس بار کمرے میں، اور میں بیٹھ کر اس کا راستہ دیکھ رہا ہوں۔
Emotion
امی نے ایک پرانی تصویر دکھائی جس میں ابا دکان کے باہر کھڑے ہیں اور میں ان کے ساتھ چھوٹا سا نظر آ رہا ہوں۔ میں فوراً سال درست کرنے لگا، پھر امی نے کہا پہلے دیکھ تو لو، تم نے ان کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے۔ واقعی پکڑا ہوا تھا۔ مجھے اس دن کی کوئی یاد نہیں، مگر تصویر دیکھ کر اچھا لگا اور کچھ اداسی بھی ہوئی۔ اب دکان جاتا ہوں تو رسیدیں درست کرتا ہوں یا دواؤں کا پوچھتا ہوں، ان کے پاس بیٹھنے کا کوئی نہ کوئی مقصد رکھتا ہوں۔ آج تصویر کی نقل مانگی۔ امی خوش ہوئیں کہ آخر تاریخ کے علاوہ بھی کچھ پسند آیا۔ میں نے بات ہنسی میں گزار دی، تصویر دوبارہ رات کو دیکھی۔
Mind
قصبے کی زبانی تاریخ ریکارڈ کرنے کے لیے سوال لکھ رہا تھا۔ پہلے ہی سوال میں تین تاریخیں اور دو اداروں کے نام آ گئے۔ اس طرح تو گفتگو سے پہلے امتحان شروع ہو جائے گا۔ میں چاہتا ہوں لوگ اپنی یاد بتائیں، لیکن غلط سن سنتے ہی انہیں روک بھی دیتا ہوں۔ اگر شروع میں ہی درست کرتا رہا تو شاید وہ آگے بولنا چھوڑ دیں۔ بہتر ہے پہلے پوری بات سنوں، پھر الگ سے پوچھوں کہ اس واقعے کے آس پاس اور کیا ہوا تھا۔ اصل ریکارڈ سے ملانے کا کام بعد میں ہو سکتا ہے۔ اب فہرست مختصر کی ہے۔ پہلا سوال صرف یہ ہے کہ وہ اس بازار میں پہلی بار کب اور کس کے ساتھ آئے تھے۔