Player حاشیہ
Mind
اپنی طالبہ کے مضمون میں ایک سادہ سا جملہ پڑھا اور دیر تک اسی پر اٹکی رہی۔ اس نے لکھا تھا کہ نظم کی عورت ناراض بھی ہے اور چاہتی بھی ہے کہ اسے منایا جائے۔ میں اس خیال کے لیے کتنی اصطلاحیں تلاش کرتی، جبکہ اس نے سیدھی بات کہہ دی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحقیق بے کار ہے، مجھے اپنے کام سے محبت ہے، مگر کبھی لگتا ہے میں وضاحت کرتے کرتے اصل کیفیت کو دور کر دیتی ہوں۔ اپنے مقالے کا ایک پیراگراف دوبارہ پڑھا تو وہی بات تین مختلف انداز میں موجود تھی۔ کاٹنے کو دل نہیں چاہا، ان جملوں پر وقت لگا تھا۔ شاید میری مشکل صرف زبان کی نہیں، اپنی محنت کو کم ہوتا دیکھنے کی بھی ہے۔
Emotion
امی نے ایک اور رشتے کا ذکر کیا تو میں نے معمول کے مطابق مقالے کی مصروفیت آگے کر دی۔ وہ خاموش ہو گئیں، اور مجھے اپنی کامیابی پر اطمینان کے بجائے اداسی ہوئی۔ میں ان سے لڑنا نہیں چاہتی، بس یہ چاہتی ہوں کہ ہر فون پر میری زندگی کسی اگلے مرحلے کی تیاری نہ سمجھی جائے۔ بعد میں انہوں نے چھوٹی بہن کی شرارت سنائی تو ہم دونوں ہنسیں، مگر پہلی بات درمیان میں رہی۔ عجیب یہ بھی ہے کہ بھیجی ہوئی تصویر میں نے دوبارہ دیکھی، پھر خود ہی شرمندہ ہوئی جیسے اپنے موقف سے پھر گئی ہوں۔ کسی کو پسند کرنے کا امکان اور ابھی شادی نہ چاہنا ایک ساتھ ہو سکتے ہیں، لیکن امی کو یہ بات کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
Body
آج کتب خانے سے واپس آ کر سیدھی میز پر بیٹھنے کے بجائے چھت پر چلی گئی۔ سارا دن جھک کر پڑھنے سے گردن ایسی اکڑی تھی کہ پیچھے مڑنے کے لیے کندھے بھی ساتھ گھمانے پڑ رہے تھے۔ چند چکر آہستہ آہستہ لگائے تو ہوا چہرے پر اچھی لگی اور ہاتھ، جو اندر ٹھنڈے پڑ گئے تھے، ذرا گرم ہوئے۔ میری کمرے کی ساتھی چائے لے آئی، مگر میں نے کپ فوراً نہیں لیا؛ پہلی بار محسوس ہوا کہ انگلیاں بھی مسلسل قلم پکڑنے سے تھکی ہوئی ہیں۔ ہم کچھ دیر خاموش کھڑی رہیں۔ نیچے اترتے وقت بھوک صاف محسوس ہو رہی تھی، ورنہ اکثر رات کا کھانا صرف گھڑی دیکھ کر کھاتی ہوں اور پھر کتاب کھول لیتی ہوں۔