Emotion
چھوٹی بہن نے چائے دیتے ہوئے میری نقل اتاری، سر آپ کو اور کچھ چاہیے، بالکل اس آواز میں جو میں مسافروں سے بات کرتے ہوئے رکھتا ہوں۔ گھر میں سب ہنس پڑے اور میں بھی، پھر اس نے کہا بھائی گھر میں ایسے سیدھے کیوں نہیں بیٹھتے۔ اس کے لیے میں اب بھی وہی بھائی ہوں جو اس کی پلیٹ سے پکوڑا اٹھا لیتا ہے، یونیفارم والا کوئی خاص آدمی نہیں۔ اچھا لگا، خاص طور پر آج جب پوری فلائٹ میں مسکراتے رہنے سے اکتا گیا تھا۔ میں نے اس کی نقل کی تو فوراً ناراض ہو گئی۔ اپنی باری پر برداشت ختم۔ چائے ٹھنڈی ہو گئی مگر میں کافی دیر وہیں بیٹھا رہا، فون بھی جیب میں تھا۔
Body
گاؤں واپس آ کر چارپائی پر لیٹا تو پہلے کچھ دیر لگا جیسے ابھی بھی گاڑی چل رہی ہے۔ اسلام آباد سے راستے میں شیشے کے ساتھ سر ٹکا کر سو گیا تھا، ایک طرف گردن اکڑ گئی اور جوتے اتارے تو پاؤں میں گرمی بھری ہوئی تھی۔ امی کھانے کا پوچھ رہی تھیں مگر میں نے کہا دس منٹ ایسے ہی رہنے دیں۔ ہوٹل کے نرم بستر پر بھی اتنی جلدی ٹانگیں ڈھیلی نہیں پڑتیں جتنی یہاں صحن میں پڑ گئیں۔ چھوٹا بھتیجا آ کر چارپائی ہلانے لگا، اس کو یہی کھیل سوجھا تھا۔ میں نے آنکھیں کھولے بغیر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اب سفر ختم ہونے کے بعد بھی مجھے یہ صاحب جہاز کے جھٹکے دے رہے تھے۔
Mind
اعلان کی ایک انگریزی لائن بار بار ذہن میں آ رہی ہے۔ غلط نہیں بولی تھی، بس ساتھ والے ساتھی کی زبان پر اتنی آسانی سے نکلتی ہے اور میں پہلے لفظ کو اندر ہی اندر تیار کرتا ہوں۔ مسافر شاید سنتے بھی نہ ہوں، زیادہ تر اپنی بیلٹ یا سامان میں لگے ہوتے ہیں، مگر میں ان کے چہرے دیکھتا ہوں کہ کسی نے رکنے کو محسوس تو نہیں کیا۔ رات کو کمرے میں وہی لائن آرام سے بول لی، پھر خود ہی سوچا خالی کمرے کو اعلان سنانا آسان ہے۔ مسئلہ لفظ یاد ہونے کا نہیں ہے۔ اگلی ڈیوٹی سے پہلے پھر دہرا لوں گا، ویسے اس ساتھی کو پنجابی میں ہمارے گاؤں کا پتہ سمجھانا پڑے تو اس کا بھی یہی حال ہو۔